شام کا یمن میں ممکنہ فوجی تعاون پر غور
امریکی اور برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون سے لے کر حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمنی فورسز کی مدد کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی تک مختلف امکانات شامل ہیں۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق سعودی عرب نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ تاہم شامی سفارت کار کے مطابق شام اس وقت اپنی داخلی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔
شامی سفارت کار نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی درخواست موصول ہونے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری معاہدوں کے تحت اس کا جائزہ لیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق شام کی ممکنہ فوجی شمولیت سے یمن کے تنازع کے علاقائی اور فرقہ وارانہ پہلو مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ شامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست تصادم خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ شامی عبوری سربراہ احمد الشرع نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ امریکی حکام کے مطابق احمد الشرع سعودی درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

