مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبات نہیں منوائے جا سکتے: رانا ثناء اللہ
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ذاتی سیاسی ایجنڈے کو قومی مفادات پر ترجیح نہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاست سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں اور صوبے میں سکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت احتجاج اور لانگ مارچ کے لیے لوگوں کو اکٹھا کر رہی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ 4 اکتوبر سے جاری لانگ مارچ کے باوجود چند ہزار افراد بھی جمع نہیں کیے جا سکے، جبکہ منتظمین نے لانگ مارچ کی آڑ میں کروڑوں روپے حاصل کیے۔
مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی پہلے سے موجود ہے اور اس پر عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کیے جا رہے ہیں اور ان کا سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئے آپریشن اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے متعلق تاثر درست نہیں، کوئی آئی ڈی پیز نہیں بن رہے، تاہم دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
افغانستان کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، چین اور ترکیہ نے افغان حکام کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال نہ ہونے دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم افغان حکام اس حوالے سے ضمانت دینے پر تیار نہیں۔

