لاہور ہائیکورٹ: چارج دیر سے فریم ہونا بے قاعدگی، مگر ٹرائل خودبخود کالعدم نہیں
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمے میں چارج دیر سے فریم ہونا قانونی بے قاعدگی ہے، تاہم صرف اس بنیاد پر ٹرائل کالعدم یا دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ اس سے کسی فریق کو حقیقی نقصان یا انصاف کی ناکامی ہوئی۔
جسٹس محمد جواد ظفر نے فہد انور کی جانب سے دائر اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے دو ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل خارج کر دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ چارج فریم کیے بغیر استغاثہ کی شہادت ریکارڈ کرنا قانونی طریقہ کار کے خلاف ہے، تاہم اس مقدمے میں ملزمان پورے ٹرائل کے دوران عدالت میں موجود رہے اور ان کے وکلا نے گواہوں پر جرح بھی کی۔
فیصلے کے مطابق یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ چارج دیر سے فریم ہونے کے باعث ملزمان کو کوئی حقیقی نقصان پہنچا یا کوئی اہم شہادت ریکارڈ ہونے سے رہ گئی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کا جرم شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عینی شاہد نہ ہونے، شواہد میں تضادات، مبینہ آلۂ جرم برآمد نہ ہونے اور آزاد گواہوں کی عدم پیشی سمیت دیگر وجوہات بھی سامنے آئیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ صرف قانونی بے قاعدگی کی بنیاد پر ڈی نوو ٹرائل کا حکم دینا استغاثہ کو اپنی خامیاں دور کرنے کا دوسرا موقع دینے کے مترادف ہوگا، لہٰذا بریت کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی۔

