نیویارک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا او آئی سی سے مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھنے کا مطالبہ۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع تقریباً 8 دہائیوں سے حل طلب ہے، پائیدار حل مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی اپنی اصولی یکجہتی کو مؤثر سفارتی اقدامات میں تبدیل کرے اور عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے متحدہ مؤقف برقرار رکھا جائے۔
اسحاق ڈار: کشمیری عوام تقریباً 80 سال سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کے منتظر ہیں، پاکستان کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔
نیویارک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا او آئی سی سے مسئلہ کشمیر پر مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کا مطالبہ۔
اسحاق ڈار: مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی و شہری آزادیوں پر پابندیاں عائد ہیں، کشمیری رہنماؤں، کارکنوں، صحافیوں اور نوجوانوں کو گرفتاریوں اور حراست کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے ڈومیسائل و اراضی قوانین، انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی اور دیگر اقدامات سے مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی، سیاسی اور ثقافتی حیثیت متاثر کی جا رہی ہے۔
وزیر خارجہ: میڈیا کی آزادی محدود ہے، صحافیوں کو دباؤ اور حراست کا سامنا ہے جبکہ بین الاقوامی میڈیا اور آزاد مبصرین کو مقبوضہ کشمیر تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل نہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے باعث خطے کے امن و سلامتی کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔
اسحاق ڈار: فوجی طاقت دیرینہ تنازعات کا حل نہیں، مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ حل ہی پائیدار راستہ ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور کسی فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی اجازت نہیں۔
نیویارک: اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود بین الاقوامی تنازع ہے، کوئی ملکی قانون، عدالتی فیصلہ یا آبادیاتی تبدیلی کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
اسحاق ڈار: پاکستان سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور منصفانہ حل کے لیے پرعزم ہے۔
نائب وزیراعظم نے او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر متحدہ مؤقف اور مؤثر سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں۔
انہوں نے بھارت سے 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے اقدامات واپس لینے، سیاسی قیدیوں اور زیرحراست افراد کو رہا کرنے اور آبادیاتی تبدیلی کی کوششیں روکنے کا مطالبہ کیا۔
اسحاق ڈار: بین الاقوامی میڈیا، آزاد مبصرین اور متعلقہ عالمی اداروں کو مقبوضہ جموں و کشمیر تک بلا روک ٹوک رسائی دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کسی نئے وعدے کے بجائے کئی دہائیاں قبل کیے گئے بین الاقوامی عزم کی تکمیل چاہتے ہیں، او آئی سی کو اپنی حمایت کو مؤثر سفارتی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔

