دو سال سے لاپتہ 16 سالہ لڑکی بازیاب، لاہور ہائیکورٹ میں پیش
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے حکم پر دو سال سے لاپتہ 16 سالہ لڑکی کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
لاپتہ لڑکی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس نے لڑکی کو بازیاب کرا کے عدالت کے روبرو پیش کیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے لڑکی کی شناخت کی تصدیق کی اور آئی جی پنجاب سے بھی پوچھا کہ کیا عدالت میں پیش کی گئی لڑکی وہی ہے جس کی تصویر عدالت کے پاس موجود ہے۔ آئی جی پنجاب نے تصدیق کی کہ بازیاب ہونے والی لڑکی وہی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پنجاب میں بچیوں کے اغوا اور لاپتہ ہونے کے کیسز سے متعلق سوال کیا۔ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ صوبے میں ایسے 500 سے زائد کیسز موجود ہیں جن پر کام جاری ہے۔
چیف جسٹس نے لاپتہ بچیوں کے کیسز کی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے خواتین اور بچوں سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کے طریقہ کار کے بارے میں بھی استفسار کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ خواتین اور بچیوں سے متعلق مقدمات میں پولیس کو حساسیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے اور متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کو سمجھنا چاہیے۔
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں لاپتہ بچیوں کی بازیابی اور زیر التوا مقدمات سے متعلق آئی جی پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

