انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد
انسداد دہشت گردی عدالت میں بیرئیر ہٹانے کے کیس کی سماعت ہوئی، جس کی صدارت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران وکیل زینب جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود انہیں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی کیس کی نقول فراہم کی گئیں۔
ہادی علی چٹھہ نے بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک کیس کی کاپیاں فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے اعتراضات کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کر دی اور استغاثہ کے گواہوں کو 9 اکتوبر کو طلب کر لیا۔
جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عدالتی حکم کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

