Close Menu
Goonj DigitalGoonj Digital
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • کاروبار
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • موسم
  • وائرل

اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً

اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً.

اختيارات المحرر

قصور: مبینہ زہریلی کھیر نے ہنستے بستے خاندان کو اجاڑ دیا

اکتوبر 29, 2026

رونالڈو نے میسی کو پیچھے چھوڑ دیا، 2008 کا بیلن ڈی اور بہترین قرار

اکتوبر 29, 2026

مریم نواز سے صدر لاہور چیمبر کی ملاقات، کاروباری برادری کے مسائل پر تبادلہ خیال

اکتوبر 29, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
Facebook X (Twitter) Instagram
Goonj DigitalGoonj Digital
Subscribe
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • کاروبار
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • موسم
  • وائرل
Goonj DigitalGoonj Digital
You are at:Home»اہم ترین»پاکستان اور روس: سیاسی قربت سے عملی شراکت داری تک
اہم ترین

پاکستان اور روس: سیاسی قربت سے عملی شراکت داری تک

amirraoamirraoستمبر 26, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email
  •  پاکستان اور روس کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جہاں سفارتی قربت کے ساتھ اب اصل سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک اس تعلق کو تجارت، توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ، سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں کس حد تک قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

اعلیٰ سطحی رابطوں، بین الحکومتی کمیشن کے اجلاسوں، کاروباری وفود کے تبادلوں اور مختلف شعبوں میں ہونے والے مذاکرات نے تعاون کے نئے امکانات ضرور پیدا کیے ہیں لیکن دونوں ممالک کی مجموعی اقتصادی صلاحیت اور حقیقی تجارتی حجم کے درمیان اب بھی واضح فرق موجود ہے۔

پاکستان کے وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے جولائی 2026 میں ایک پاک روس ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مالی سال 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 243.412 ملین ڈالر رہی جبکہ مالی سال 2024 میں یہی تجارت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، ان کے مطابق ادائیگی کے طریقہ کار، بینکاری ذرائع، مالی معاونت، شپنگ اور رسد کی مشکلات نے تجارت کو متاثر کیا۔

سیاسی قربت اپنی جگہ، لیکن تجارت اس وقت تک مستقل بنیادوں پر آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک مالیاتی اور نقل و حمل کے مسائل کا قابل اعتماد حل نہ نکلے، ایک سال تجارت ایک ارب ڈالر سے اوپر جائے اور اگلے سال نمایاں طور پر نیچے آ جائے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ڈھانچہ ابھی اتنا مضبوط نہیں کہ تجارت میں تسلسل برقرار رکھ سکے۔

روس 14 کروڑ سے زیادہ آبادی کی بڑی منڈی ہے۔ توانائی، اناج، کھاد، صنعتی خام مال، مشینری اور ٹیکنالوجی میں اس کی عالمی اہمیت واضح ہے، دوسری طرف پاکستان ٹیکسٹائل، چاول، پھل، سبزیاں، سمندری خوراک، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کے سامان اور آلات جراحی سمیت کئی شعبوں میں برآمدی صلاحیت رکھتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ کاروبار کے لیے صرف منڈی کافی نہیں ہوتی، قابل اعتماد ادائیگی کا نظام، بینکاری سہولت، مناسب بیمہ، آسان کسٹم طریقہ کار، کم لاگت والی رسد اور مستقل نقل و حمل کا راستہ بھی ضروری ہوتا ہے۔

ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والے مختلف اقتصادی فورمز میں پاکستانی حکام، سفارت کاروں اور کاروباری نمائندوں سے ہونے والی گفتگو میں بھی یہی مسئلہ بار بار سامنے آتا رہا ہے۔ روس پر مغربی پابندیوں کے بعد بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں نے روس کے ساتھ تجارت کرنے والے کئی ممالک کو متبادل ادائیگی کے طریقے تلاش کرنے پر مجبور کیا، پاکستان اور روس کے لیے بھی اب یہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے کہ ایسا شفاف اور قابل عمل نظام بنایا جائے جس کے ذریعے دونوں ممالک کے کاروباری ادارے محفوظ اور آسان انداز میں ادائیگیاں کر سکیں۔

یہ مسئلہ صرف بڑے کاروباری اداروں تک محدود نہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کاروباری شخص کو ہر ادائیگی کے لیے غیر معمولی انتظام کرنا پڑے، بینک راستہ واضح نہ ہو اور رسد کا خرچ تجارتی منافع کھا جائے تو صرف اچھے سیاسی تعلقات تجارت بڑھانے کے لیے کافی نہیں رہتے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
Previous Articleبلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے
Next Article امریکا کے ساتھ براہ راست بات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں: ایرانی صدر
amirrao
  • Website

Related Posts

قصور: مبینہ زہریلی کھیر نے ہنستے بستے خاندان کو اجاڑ دیا

اکتوبر 29, 2026

رونالڈو نے میسی کو پیچھے چھوڑ دیا، 2008 کا بیلن ڈی اور بہترین قرار

اکتوبر 29, 2026

مریم نواز سے صدر لاہور چیمبر کی ملاقات، کاروباری برادری کے مسائل پر تبادلہ خیال

اکتوبر 29, 2026
Leave A Reply Cancel Reply

Demo
الأخيرة

دولت میں 2500 کروڑ روپے کی کمی کے باوجود شاہ رخ بھارت کے امیر ترین اداکار

ستمبر 24, 2026

ملک بھر میں بیس جون تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

جون 17, 2026

اداکارہ نیلم منیر کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع؟ تصاویر وائرل

جون 17, 2026

لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: رانا ثنااللہ

ستمبر 24, 2026
أخبار خاصة
اہم ترین اکتوبر 29, 2026

قصور: مبینہ زہریلی کھیر نے ہنستے بستے خاندان کو اجاڑ دیا

قصور: کنگن پور کے گاؤں محمود خانیکے میں مبینہ زہریلی کھیر کھانے سے ایک ہی…

رونالڈو نے میسی کو پیچھے چھوڑ دیا، 2008 کا بیلن ڈی اور بہترین قرار

اکتوبر 29, 2026

مریم نواز سے صدر لاہور چیمبر کی ملاقات، کاروباری برادری کے مسائل پر تبادلہ خیال

اکتوبر 29, 2026
إتبعنا
  • Facebook
  • YouTube
  • TikTok
  • WhatsApp
  • Twitter
  • Instagram
الأكثر قراءة
8.9
Uncategorized جنوری 15, 2021

السماعات الذكية.. أذنك أصبحت تملك حاسوبا! اشتري الآن

85
Uncategorized جنوری 14, 2021

هل تُفكر في السفر مع أطفالك؟ اجعلها تجربة مميزة

72
Uncategorized جنوری 14, 2021

خطة طوارئ لاستدعاء الجيش وخسائر منتظرة بالمليارات..

Demo
© 2026 جميع الحقوق محفوظة.
  • ہوم
  • Buy Now

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.