- پاکستان اور روس کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جہاں سفارتی قربت کے ساتھ اب اصل سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک اس تعلق کو تجارت، توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ، سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں کس حد تک قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
اعلیٰ سطحی رابطوں، بین الحکومتی کمیشن کے اجلاسوں، کاروباری وفود کے تبادلوں اور مختلف شعبوں میں ہونے والے مذاکرات نے تعاون کے نئے امکانات ضرور پیدا کیے ہیں لیکن دونوں ممالک کی مجموعی اقتصادی صلاحیت اور حقیقی تجارتی حجم کے درمیان اب بھی واضح فرق موجود ہے۔
پاکستان کے وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے جولائی 2026 میں ایک پاک روس ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مالی سال 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 243.412 ملین ڈالر رہی جبکہ مالی سال 2024 میں یہی تجارت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، ان کے مطابق ادائیگی کے طریقہ کار، بینکاری ذرائع، مالی معاونت، شپنگ اور رسد کی مشکلات نے تجارت کو متاثر کیا۔
سیاسی قربت اپنی جگہ، لیکن تجارت اس وقت تک مستقل بنیادوں پر آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک مالیاتی اور نقل و حمل کے مسائل کا قابل اعتماد حل نہ نکلے، ایک سال تجارت ایک ارب ڈالر سے اوپر جائے اور اگلے سال نمایاں طور پر نیچے آ جائے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ڈھانچہ ابھی اتنا مضبوط نہیں کہ تجارت میں تسلسل برقرار رکھ سکے۔
روس 14 کروڑ سے زیادہ آبادی کی بڑی منڈی ہے۔ توانائی، اناج، کھاد، صنعتی خام مال، مشینری اور ٹیکنالوجی میں اس کی عالمی اہمیت واضح ہے، دوسری طرف پاکستان ٹیکسٹائل، چاول، پھل، سبزیاں، سمندری خوراک، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کے سامان اور آلات جراحی سمیت کئی شعبوں میں برآمدی صلاحیت رکھتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کاروبار کے لیے صرف منڈی کافی نہیں ہوتی، قابل اعتماد ادائیگی کا نظام، بینکاری سہولت، مناسب بیمہ، آسان کسٹم طریقہ کار، کم لاگت والی رسد اور مستقل نقل و حمل کا راستہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والے مختلف اقتصادی فورمز میں پاکستانی حکام، سفارت کاروں اور کاروباری نمائندوں سے ہونے والی گفتگو میں بھی یہی مسئلہ بار بار سامنے آتا رہا ہے۔ روس پر مغربی پابندیوں کے بعد بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں نے روس کے ساتھ تجارت کرنے والے کئی ممالک کو متبادل ادائیگی کے طریقے تلاش کرنے پر مجبور کیا، پاکستان اور روس کے لیے بھی اب یہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے کہ ایسا شفاف اور قابل عمل نظام بنایا جائے جس کے ذریعے دونوں ممالک کے کاروباری ادارے محفوظ اور آسان انداز میں ادائیگیاں کر سکیں۔
یہ مسئلہ صرف بڑے کاروباری اداروں تک محدود نہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کاروباری شخص کو ہر ادائیگی کے لیے غیر معمولی انتظام کرنا پڑے، بینک راستہ واضح نہ ہو اور رسد کا خرچ تجارتی منافع کھا جائے تو صرف اچھے سیاسی تعلقات تجارت بڑھانے کے لیے کافی نہیں رہتے۔

