اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر درجنوں ممالک کے وفود احتجاجاً اجلاس ہال سے باہر نکل گئے۔
نیتن یاہو کی تقریر کے دوران درجنوں وفود کا واک آؤٹ، پاکستان سمیت کئی ممالک اجلاس سے باہر نکل گئے
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر کے آغاز پر متعدد ممالک کے وفود نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 77 ممالک کے وفود یا تو ہال سے باہر نکل گئے یا پہلے ہی اجلاس میں موجود نہیں تھے، تاہم یہ وضاحت بھی سامنے آئی ہے کہ تمام غیر حاضر وفود کو احتجاجی واک آؤٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹس کے مطابق واک آؤٹ کرنے والے وفود میں عرب ممالک سمیت ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکا کے متعدد ممالک شامل تھے۔ پاکستان، ترکیہ، ایران، ملائیشیا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، افغانستان، ازبکستان اور کرغزستان سمیت کئی ممالک کے نمائندوں نے نیتن یاہو کی تقریر کے آغاز پر ہال چھوڑا۔
رپورٹس کے مطابق فلسطینی مشن نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے نمائندوں سے نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر اجتماعی طور پر ہال سے باہر نکلنے کی اپیل کی تھی۔
یہ واقعہ غزہ کی جنگ اور اسرائیلی کارروائیوں پر اقوام متحدہ میں موجود شدید سفارتی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں اسرائیل کی کارروائیوں کا دفاع کیا، جبکہ ہال میں موجود متعدد وفود نے ان کے خطاب کے دوران احتجاجاً باہر نکلنے کا راستہ اختیار کیا۔

