خواجہ آصف: پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف یہ آخری کوشش ہوگی
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لوگ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو سومنات کے مندر سے تشبیہ دے رہے ہیں، لیکن یہ ان کی آخری کوشش ہوگی اور اس کے بعد وہ اس طرح اسلام آباد کا رخ نہیں کر سکیں گے۔
خواجہ آصف کے مطابق اسلام آباد ایک بڑی اسلامی اور ایٹمی ریاست کا دارالحکومت ہے اور موجودہ صورتحال کو انہوں نے “فیصلہ کن معرکہ” قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے پی ٹی آئی کے کارکن اسلام آباد آئیں ہی نہ، اور یہ بھی ایک فیصلہ کن بات ہوگی۔
یہ بیان پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کے اعلان کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
27 ستمبر اسلام آباد مارچ: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ
پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ وفاقی وزرا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے احتجاج روکنے کی کوشش کی تو نوجوان “اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے”۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے چند روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر حکومت نے احتجاج دبانے کی کوشش کی تو اس بار خاموش نہیں بیٹھیں گے اور “اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے”۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے وفد میں شامل وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں پی ٹی آئی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو سومنات سے تشبیہ دینا قابلِ تشویش ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد ایک بڑی اسلامی اور ایٹمی ریاست کا دارالحکومت ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو “یہ ان کی آخری کوشش ہوگی”۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس کے بعد پی ٹی آئی اس سمت رخ نہیں کر سکے گی اور اب “فیصلہ کن معرکہ” ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کارکن اسلام آباد آئیں ہی نہ، اور یہ بھی ایک فیصلہ کن بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق یا پاکستان اب اس طرح کی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما فوزیہ قصوری نے بھی اسلام آباد پر حملے کی بات کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے نام پر اسلام آباد پر حملے کی بات کرنے والا پاکستان کا دوست نہیں، جبکہ انہوں نے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی تجویز بھی دی۔
فوزیہ قصوری نے کہا کہ مختلف نظریات کی بنیاد پر ریاست اور افواج کے خلاف پروپیگنڈا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق احتجاج کرنا ہے تو کیا جائے، لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنی پالیسی پیش کرنی چاہیے، خصوصاً خیبر پختونخوا میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔

