پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی تجویز، ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں انتظامی اصلاحات پر زور
ورلڈ اکنامک فورم کی 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
رپورٹ میں 16 انتظامی یونٹس، 23 سے 25 یونٹس یا موجودہ ڈویژنز کی بنیاد پر 32 سے زائد صوبے بنانے کے ممکنہ ماڈلز کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافے کے باعث تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور دیگر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے انتظامی اصلاحات پر غور اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
تجزیے میں اِس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اندازہ ہے کہ 2030 تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے انتظامی اصلاحات کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق انتظامی حدود کو آبادیاتی اور معاشی حقائق کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے، تاہم، اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ صرف نئے صوبے بنانے سے عوامی خدمات میں بہتری کی ضمانت نہیں ملتی، اس مقصد کے لیے قابلِ اعتماد مالی وسائل، واضح طور پر متعین ذمہ داریاں، مضبوط ادارے اور مؤثر احتسابی نظام بھی ضروری ہیں۔

