وفاقی آئینی عدالت: ہر نامناسب رویہ جنسی ہراسگی نہیں
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کے لیے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے۔ محض نامناسب، ناپسندیدہ یا نقصان دہ رویہ اس قانون کے تحت جنسی ہراسگی تصور نہیں ہوگا۔
عدالت کے مطابق جنسی عنصر کے بغیر شکایت وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، تاہم متعلقہ ادارہ اپنے سروس رولز کے تحت ایسے رویے پر تادیبی کارروائی کرسکتا ہے۔
18 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ہراسگی ایکٹ کا بنیادی مقصد کام کی جگہ پر خواتین اور مردوں کو جنسی ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنا ہے، اس لیے ہر عمومی نوعیت کی شکایت پر اس قانون کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف صدرِ مملکت نمائندگی سننے کے مجاز ہیں، جبکہ ہائی کورٹ محدود آئینی بنیادوں پر ہی محتسب کے فیصلے میں مداخلت کرسکتی ہے۔
کیس میں وفاقی محتسب نے دو بینک افسران کو برطرفی کی سزا دی تھی، جسے صدرِ مملکت نے تبدیل کرکے سرزنش کی سزا کردی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر کا حکم کالعدم کرکے محتسب کا فیصلہ بحال کیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے 31 دسمبر 2024 کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صدرِ مملکت کا حکم بحال کردیا۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔

